صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۷ - رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت

رمضان میں تہجد اور وتر: نبی صلى الله عليه وسلم کی گیارہ رکعت نماز

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۴۷

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي " .

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت:

´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں سعید بن ابوسعید مقبری نے خبر دی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ` ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں (رات کو) کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا کوئی اور۔پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے۔ ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت اور پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رمضان کی رات کی نماز، تہجد اور وتر کا ذکر ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم رمضان میں رات کو کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم رمضان میں بھی اور غیر رمضان میں بھی گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ پہلے چار رکعت پڑھتے، جن کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا، پھر چار رکعت اور پڑھتے، وہ بھی بہت عمدہ اور لمبی ہوتیں، پھر تین رکعت پڑھتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا آپ وتر سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں مگر میرا دل نہیں سوتا۔ اس حدیث کا پیغام رکعتوں کی گنتی کے ساتھ نماز کے حسن، لمبائی اور توجہ کی طرف بھی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کی رات کی نماز رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت تک بیان ہوئی ہے۔
  • نماز کی خوبی اور لمبائی کا خاص ذکر کیا گیا ہے۔
  • وتر رات کی نماز کا اہم حصہ ہے۔
  • اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کی خاص حالت بیان ہوئی کہ آنکھیں سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں