صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۸ - رات کی نماز بیٹھ کر پڑھنا
رات کی نماز میں بیٹھ کر قراءت کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۱۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۴۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا ، فَإِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهُنَّ ثُمَّ رَكَعَ " .
عائشہ روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی کسی نماز میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر قرآن پڑھتے تھے لیکن جب تیس چالیس آیتیں رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے پھر اس کو پڑھ کر رکوع کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رات کی نماز میں بیٹھ کر قراءت کرنے کا ذکر ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو رات کی کسی نماز میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ آپ صلى الله عليه وسلم بوڑھے ہو گئے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم بیٹھ کر قرآن پڑھتے تھے۔ جب سورت کی تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے، وہ آیات کھڑے ہو کر پڑھتے، پھر رکوع فرماتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی رات کی نماز میں اصل معمول کھڑے ہو کر قراءت کا تھا، مگر عمر زیادہ ہونے پر بیٹھ کر قراءت بھی کی۔ ساتھ ہی یہ بھی آیا کہ رکوع سے پہلے کھڑے ہو جاتے تھے۔ یہ بیان نماز کے طریقے کا ہے، اس لیے اسے اپنی طرف سے بڑھا کر کوئی الگ بات نہیں بنانی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رات کی نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم کا پہلے معمول کھڑے ہو کر قراءت کرنا تھا۔
- عمر زیادہ ہونے پر بیٹھ کر قراءت کرنے کا عمل بھی بیان ہوا ہے۔
- رکوع سے پہلے آپ صلى الله عليه وسلم کھڑے ہو کر باقی آیات پڑھتے تھے۔
- عبادت میں جسمانی حالت کا لحاظ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے سمجھ آتا ہے۔
