صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۸ - اللہ کو محبوب عمل کون سا ہے؟
اللہ کو محبوب عمل: تھوڑا مگر مستقل
صحیح مسلم : ۱۸۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۲۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ فرمایا: ”جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۸۲۸ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث میں بہت بڑی رہنمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔ اس سے “محبوب عمل” کا معیار سمجھ آتا ہے۔ صرف زیادہ مقدار اصل مقصد نہیں، بلکہ ایسا عمل اہم ہے جسے آدمی جاری رکھ سکے۔ نماز، تلاوت، ذکر یا کوئی نیکی اگر تھوڑی بھی ہو مگر پابندی سے ہو، تو حدیث کے مطابق وہ اللہ کو محبوب اعمال میں سے ہے۔ اس روایت میں کسی خاص عمل کا نام نہیں لیا گیا، اس لیے اصل توجہ عمل کی پابندی اور دوام پر ہے، نہ کہ اپنے اوپر حد سے زیادہ بوجھ ڈالنے پر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے نزدیک مستقل عمل پسندیدہ ہے۔
- عمل کم ہو تو بھی اسے جاری رکھنا اہم ہے۔
- عبادت میں مقدار سے زیادہ پابندی کا پہلو نمایاں ہے۔
- اپنی طاقت کے مطابق نیکی کا مستقل معمول بنانا چاہیے۔
