صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۵ - فتنوں سے دین بچانے کی حدیث
فتنوں سے دین بچانا: جب تنہائی بہتر ہو جائے
صحیح بخاری : ۶۴۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۹۵
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ خَيْرُ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ الْغَنَمُ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ " .
ابو سعید خدری روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ایک مسلمان کا سب سے بہتر مال بھیڑیں ہوں گی وہ انہیں لے کر پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں پر چلا جائے گا، اس دن وہ اپنے دین کو لے کر فسادوں سے ڈر کر وہاں سے بھاگ جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے زمانے کا ذکر فرمایا جب مسلمان کا بہترین مال بھیڑیں ہوں گی، جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش والی جگہوں کی طرف چلا جائے گا۔ وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے وہاں جائے گا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ماحول دین کے لیے بہت خطرناک ہو جائے، اور انسان کو اپنے ایمان، عبادت اور اخلاق کے خراب ہونے کا خوف ہو، تو فتنوں سے بچنا اہم ہو جاتا ہے۔ یہ ہر وقت ہر انسان کے لیے عام حکم نہیں، بلکہ حدیث میں خاص فتنوں کے زمانے کا ذکر ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ دین کی حفاظت مال، جگہ اور سہولت سے زیادہ اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی حفاظت دنیاوی سہولت سے زیادہ اہم ہے۔
- فتنوں کے وقت انسان کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔
- بعض حالات میں برے ماحول سے دور رہنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
