صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۴ - بہترین انسان کون ہے؟
بہترین انسان کی حدیث: عبادت اور لوگوں کو شر سے بچانا
صحیح بخاری : ۶۴۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۹۴
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ ، وَمَالِهِ ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَعْبُدُ رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ " ، تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَالنُّعْمَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، أَوْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ يُونُسُ ، وَابْنُ مُسَافِرٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابو سعید خدری روایت:
سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! کون شخص سب سے اچھا ہے؟ فرمایا کہ وہ شخص جس نے اپنی جان اور مال کے ذریعہ جہاد کیا اور وہ شخص جو کسی پہاڑ کی کھوہ میں ٹھہرا ہوا اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہے۔اس روایت کی متابعت زبیدی، سلیمان بن کثیر اور نعمان نے زہری سے کی۔ اور معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عطاء یا عبیداللہ نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یونس و ابن مسافر اور یحییٰ بن سعید نے ابن شہاب (زہری) سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون شخص سب سے اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مثالیں بیان فرمائیں۔ ایک وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرے۔ دوسرا وہ شخص جو کسی پہاڑی گھاٹی میں اپنے رب کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھے۔ اس حدیث میں عبادت، قربانی اور دوسروں کو نقصان نہ پہنچانے کی اہمیت صاف نظر آتی ہے۔ ہر شخص کا حال ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی کے لیے میدان عمل میں قربانی ہے، اور کسی کے لیے فتنہ و فساد سے دور رہ کر عبادت اور اپنی زبان و ہاتھ کے شر سے لوگوں کو بچانا بہتر ہو سکتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ دین صرف اپنی ذات تک محدود نہیں؛ دوسروں کو اپنے نقصان سے محفوظ رکھنا بھی بڑی بات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جان و مال سے دین کے لیے قربانی بڑی نیکی ہے۔
- عبادت کے ساتھ لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھنا بھی اہم ہے۔
- فتنہ یا برے ماحول میں تنہائی بعض حالات میں بہتر ہو سکتی ہے۔
