صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۳ - اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے

اعمال کا اعتبار خاتمہ پر: ظاہری کام کافی نہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۹۳

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْأَلْهَانِيُّ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ ، وَكَانَ مِنْ أَعْظَمِ الْمُسْلِمِينَ غَنَاءً عَنْهُمْ ، فَقَالَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ، فَتَبِعَهُ رَجُلٌ فَلَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى جُرِحَ فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ ، فَقَالَ : بِذُبَابَةِ سَيْفِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ فَتَحَامَلَ عَلَيْهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ بَيْنِ كَتِفَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَيَعْمَلُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا " .

سہل بن سعد ساعدی روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو مشرکین سے جنگ میں مصروف تھا، یہ شخص مسلمانوں کے صاحب مال و دولت لوگوں میں سے تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ کسی جہنمی کو دیکھے تو وہ اس شخص کو دیکھے۔ اس پر ایک صحابی اس شخص کے پیچھے لگ گئے وہ شخص برابر لڑتا رہا اور آخر زخمی ہو گیا۔ پھر اس نے چاہا کہ جلدی مر جائے۔ پس اپنی تلوار ہی کی دھار اپنے سینے کے درمیان رکھ کر اس پر اپنے آپ کو ڈال دیا اور تلوار اس کے شانوں کو چیرتی ہوئی نکل گئی (اس طرح وہ خودکشی کر کے مر گیا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اعمال کا اعتبار تو خاتمہ پر موقوف ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص کا واقعہ بیان ہوا جو جنگ میں بہادری سے لڑ رہا تھا اور لوگوں کی نظر میں مسلمانوں کے بڑے کام آ رہا تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔ بعد میں وہ زخمی ہوا اور جلدی مرنے کے لیے اپنی تلوار پر گر کر خودکشی کر بیٹھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ لوگوں کی نظر میں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے، حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے، اور ایک بندہ لوگوں کی نظر میں اہل دوزخ کے کام کرتا رہتا ہے، حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے؛ اعمال کا اعتبار خاتمہ پر ہے۔ اس حدیث کا سبق یہ ہے کہ انسان اپنے ظاہر پر مغرور نہ ہو اور اچھے خاتمے کی فکر رکھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صرف ظاہری عمل دیکھ کر کسی کے آخری انجام کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
  • انسان کو اچھے خاتمے کی فکر رکھنی چاہیے۔
  • خودکشی کا واقعہ اس روایت میں برے انجام کے سبب کے طور پر آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں