صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۲ - چھوٹے گناہوں کو معمولی نہ سمجھو
چھوٹے گناہ کی حقیقت: معمولی سمجھنا خطرے کی بات ہے
صحیح بخاری : ۶۴۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۹۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ غَيْلَانَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعَرِ ، إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَاتِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُهْلِكَاتِ .
انس روایت:
تم ایسے ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں (تم اسے حقیر سمجھتے ہو، بڑا گناہ نہیں سمجھتے) اور ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاک کر دینے والا سمجھتے تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ حدیث میں جو لفظ «موبقات» ہے اس کا معنی ہلاک کرنے والے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۲ کا خلاصہ
اس روایت میں انس رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو متوجہ کیا کہ تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے بھی باریک ہیں، یعنی تم انہیں بہت معمولی سمجھتے ہو، مگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں ہلاک کر دینے والے کاموں میں شمار کرتے تھے۔ اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ گناہ کو چھوٹا سمجھ کر بے فکر نہ ہو جانا چاہیے۔ کبھی انسان کوئی بات، کوئی حرکت یا کوئی کوتاہی معمولی سمجھ لیتا ہے، مگر دین میں اس کا اثر بڑا ہو سکتا ہے۔ حدیث کا مقصد یہ نہیں کہ انسان ناامید ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لے۔ گناہ کو ہلکا سمجھنا دل کی غفلت کی علامت بن سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی گناہ کو صرف اپنی نظر میں معمولی سمجھ کر ہلکا نہیں لینا چاہیے۔
- صحابہ کرام اعمال کے بارے میں زیادہ محتاط تھے۔
- اپنے روزمرہ کاموں کا جائزہ لیتے رہنا دین داری کا حصہ ہے۔
