صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۱ - نیکی کی نیت کا اجر
نیکی کی نیت اور عمل: اللہ کی رحمت کا بیان
صحیح بخاری : ۶۴۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۹۱
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا جَعْدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً ، فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا ، كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کر دی ہیں اور پھر انہیں صاف صاف بیان کر دیا ہے۔ پس جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک مکمل نیکی کا بدلہ لکھا ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں دس گنا سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی ہیں اور اس سے بڑھ کر اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں نیکی لکھی ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اپنے یہاں اس کے لیے ایک برائی لکھی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۱ کا خلاصہ
یہ حدیث قدسی نیت، نیکی اور گناہ کے حساب کو بہت واضح کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دیں، پھر ان کا طریقہ بیان فرمایا۔ اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرے مگر عمل نہ کر سکے تو اس کے لیے ایک مکمل نیکی لکھی جاتی ہے۔ اگر نیت کے بعد عمل بھی کر لے تو دس گنا سے سات سو گنا تک، بلکہ اس سے زیادہ اجر لکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر کوئی برائی کا ارادہ کرے مگر اسے چھوڑ دے تو اس کے لیے نیکی لکھی جاتی ہے، اور اگر برائی کر بیٹھے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔ یہ حدیث اللہ کی رحمت، نیت کی قدر اور عمل کی اہمیت کو صاف انداز میں سامنے لاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی کی سچی نیت بھی اللہ کے ہاں قدر رکھتی ہے۔
- نیکی پر عمل کرنے سے اجر کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
- برائی چھوڑ دینا بھی اللہ کے ہاں نیکی بن سکتا ہے۔
