صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۰ - مال و صورت میں اپنے سے کم کو دیکھو

قناعت کی حدیث: مال اور صورت میں اپنے سے کم کو دیکھنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۹۰

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں نے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اسے ایسے شخص کا دھیان کرنا چاہئے جو اس سے کم درجہ کا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع قناعت اور شکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہے، تو اسے اس شخص کا دھیان کرنا چاہیے جو اس سے کم درجہ کا ہے۔ یہ بہت عملی نصیحت ہے۔ جب انسان ہر وقت اپنے سے زیادہ مالدار، زیادہ خوبصورت یا زیادہ آسودہ لوگوں کو دیکھتا ہے تو دل میں کمی، حسد یا ناشکری پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنے سے کم حالت والے لوگوں کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی نعمتیں یاد آتی ہیں۔ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی حالت پر اللہ کا شکر ادا کرے اور دوسروں سے مقابلہ کر کے دل کو خراب نہ کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال اور شکل میں اوپر والوں کو دیکھ کر دل خراب ہو سکتا ہے۔
  • اپنے سے کم حالت والوں کو دیکھنا شکر کا سبب بنتا ہے۔
  • قناعت انسان کو حسد اور بے چینی سے بچا سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں