صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۹ - اللہ کے سوا سب کچھ فانی ہے
اللہ کے سوا سب کچھ بے بنیاد: توحید کا صاف پیغام
صحیح بخاری : ۶۴۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۸۹
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے سچا شعر جسے شاعر نے کہا ہے یہ ہے ”ہاں اللہ کے سوا تمام چیزیں بےبنیاد ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شعر کو سب سے سچا شعر قرار دیا: اللہ کے سوا تمام چیزیں بے بنیاد ہیں۔ اس کا مرکزی پیغام توحید اور دنیا کی حقیقت ہے۔ انسان مال، مرتبہ، طاقت، حسن، نام اور دنیا کی چیزوں کو بہت بڑا سمجھ لیتا ہے، مگر یہ سب بدلنے والی اور ختم ہونے والی چیزیں ہیں۔ باقی رہنے والی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہے۔ اس حدیث سے یہ بات نکلتی ہے کہ مسلمان کا دل دنیا کے دھوکے میں گم نہ ہو۔ دنیا سے فائدہ اٹھانا الگ بات ہے، مگر اسے آخری سہارا سمجھ لینا درست نہیں۔ اصل بھروسہ اللہ پر ہونا چاہیے، کیونکہ وہی حقیقی مالک ہے اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کی چیزیں عارضی ہیں، اصل بھروسہ اللہ پر ہونا چاہیے۔
- توحید انسان کو دنیا کے دھوکے سے بچاتی ہے۔
- کلام میں سچائی ہو تو وہ دل کو اللہ کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔
