صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۸ - جنت اور دوزخ انسان کے قریب ہیں
جنت اور دوزخ کی قربت: ہر عمل اہم ہے
صحیح بخاری : ۶۴۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۸۸
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ " .
عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے، اور دوزخ بھی اسی طرح قریب ہے۔ اس کا پیغام بہت سیدھا ہے: انسان کے اعمال معمولی نظر آئیں، مگر ان کا انجام بڑا ہو سکتا ہے۔ ایک نیکی انسان کو جنت کے راستے کے قریب کر سکتی ہے، اور ایک گناہ دوزخ کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو اپنے روزمرہ کاموں کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ زبان، نیت، رویہ، عبادت، حقوق اور گناہوں سے بچنا سب اہم ہیں۔ حدیث ہمیں ڈراتی بھی ہے اور امید بھی دیتی ہے؛ کیونکہ جنت قریب ہے تو نیکی کا موقع بھی قریب ہے، اور دوزخ قریب ہے تو احتیاط بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چھوٹے اعمال کو بھی معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- جنت کا راستہ نیکیوں سے قریب ہو سکتا ہے۔
- دوزخ سے بچنے کے لیے گناہوں سے محتاط رہنا ضروری ہے۔
