صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۷ - جنت مشکلات سے اور دوزخ خواہشات سے ڈھکی ہے

جنت اور دوزخ کی حدیث: خواہشات اور مشکلات کا اصل امتحان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۸۷

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دوزخ خواہشات نفسانی سے ڈھک دی گئی ہے اور جنت مشکلات اور دشواریوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں جنت اور دوزخ کے راستے کو بہت صاف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ خواہشات نفسانی سے ڈھکی ہوئی ہے اور جنت مشکلات اور دشواریوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ یعنی دوزخ کی طرف لے جانے والی چیزیں اکثر نفس کو اچھی لگتی ہیں، جیسے بے قابو خواہشات۔ دوسری طرف جنت کا راستہ وہ ہے جس میں انسان اپنے نفس کو روکتا ہے، عبادت کرتا ہے، حلال و حرام کا خیال رکھتا ہے اور مشکل وقت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ دین صرف سختی ہے، بلکہ یہ کہ جنت کے لیے نفس کی تربیت ضروری ہے۔ اصل کامیابی وقتی خواہش کے پیچھے چلنے میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا والے راستے پر ثابت رہنے میں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر پسندیدہ خواہش انسان کے لیے بہتر نہیں ہوتی۔
  • جنت کا راستہ نفس پر قابو اور اطاعت سے جڑا ہے۔
  • مشکل کام اگر اللہ کی رضا کے لیے ہو تو وہ آخرت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں