صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۶ - آخرت کا خوف اور کم ہنسنا

آخرت کا خوف: اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۸۶

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تمہیں وہ معلوم ہوتا جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع آخرت کا خوف اور دل کی نرمی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی صرف ہنسی، غفلت اور بے فکری میں نہیں گزارنی چاہیے۔ آخرت، حساب، جنت اور دوزخ کا احساس دل میں رہے تو انسان کے رویے میں سنجیدگی آتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں، جگانے کے لیے ہے۔ ایک مسلمان خوش بھی ہو سکتا ہے، مگر اللہ کے سامنے پیشی کو بھول کر بے پروا نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے آخرت کا خوف، دل کی نرمی اور گناہوں سے بچنے کی فکر اس حدیث کا مرکزی پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آخرت کا علم انسان کو بے فکری سے بچاتا ہے۔
  • زیادہ غفلت دل کو سخت کر سکتی ہے، اس لیے حساب کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات انسان کو اپنی حالت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں