صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۵ - آخرت کا خوف اور رونا
اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں: آخرت کی فکر کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۸۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
سعید بن مسیب روایت:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تمہیں وہ معلوم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث آخرت کی سنجیدگی اور اللہ کے سامنے جواب دہی کی یاد دلاتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ حدیث میں تفصیل نہیں بتائی گئی کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، اس لیے ہمیں متن سے آگے بڑھ کر دعوے نہیں کرنے چاہئیں۔ اتنا واضح ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم ایسی حقیقتوں کو جانتے تھے جن کا علم انسان کو بہت سنجیدہ بنا دیتا۔ یہ حدیث بے خوف زندگی، غفلت اور حد سے زیادہ ہنسی مذاق کے مقابلے میں آخرت کی فکر پیدا کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر جائز خوشی چھوڑ دی جائے، بلکہ دل میں اللہ کا خوف اور حساب کی یاد زندہ رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخرت کا علم انسان کو سنجیدہ بناتا ہے۔
- غفلت والی زندگی سے بچنا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ہنسی کم اور رونے زیادہ ہونے کی بات فرمائی۔
- اللہ کے سامنے جواب دہی کی فکر دل میں رہنی چاہیے۔
