صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۵ - بندے کے گمان کے ساتھ اللہ
اللہ کا ذکر: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں
صحیح بخاری : ۷۴۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۰۵
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي ، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ جاتا ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۵ کا خلاصہ
یہ حدیث قدسی اللہ کے ذکر، حسن ظن، اور بندے کی قربت کے بارے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوں۔ اگر بندہ مجھے اپنے دل میں یاد کرے تو میں اسے اپنے طور پر یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے مجلس میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں۔ حدیث میں قربت کے انداز بھی بیان ہوئے ہیں: بندہ اللہ کی طرف تھوڑا قریب آتا ہے تو اللہ اس سے زیادہ قربت فرماتا ہے، اور اگر بندہ چل کر آئے تو اللہ کی طرف سے زیادہ تیزی سے رحمت اور قرب کا بیان آتا ہے۔ ذکر اللہ، حسن ظن باللہ، اور انا عند ظن عبدي بي اس حدیث کے بڑے سرچ الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
- اللہ کا ذکر دل میں بھی کیا جا سکتا ہے اور مجلس میں بھی۔
- بندہ اللہ کی طرف رجوع کرے تو حدیث میں اللہ کی خاص قربت بیان ہوئی ہے۔
- ذکر کرنے والے بندے کا ذکر اللہ کے ہاں ہوتا ہے۔
