صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۶ - اللہ کے عذاب سے پناہ کی دعا
اللہ کے عذاب سے پناہ اور فرقہ بندی کی حدیث
صحیح بخاری : ۷۴۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۰۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ، فَقَالَ : أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ سورة الأنعام آية 65 ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ، قَالَ : أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا سورة الأنعام آية 65 ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا أَيْسَرُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
جب یہ آیت نازل ہوئی «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم» ”آپ کہہ دیجئیے کہ وہ قادر ہے اس پر کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب نازل کرے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ”میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“پھر آیت کے یہ الفاظ نازل ہوئے «أو من تحت أرجلكم» ”وہ تمہارے اوپر سے تم پر عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب آ جائے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ دعا کی کہ میں تیرے منہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی «أو يلبسكم شيعا» ”یا تمہیں فرقہ بندی میں مبتلا کر دے (کہ یہ بھی عذاب کی قسم ہے)“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آسان ہے بہ نسبت اگلے عذابوں کے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۶ کا خلاصہ
یہ حدیث سورۃ الانعام کی آیت کے ایک حصے سے متعلق ہے جس میں اوپر سے عذاب، پاؤں کے نیچے سے عذاب، اور لوگوں کے فرقوں میں بٹ جانے کا ذکر آیا۔ جب اوپر سے عذاب کا ذکر ہوا تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں تیرے چہرے کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر جب نیچے سے عذاب کا ذکر آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے یہی پناہ مانگی۔ جب فرقہ بندی کا ذکر آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ پہلے دونوں عذابوں کے مقابلے میں آسان ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کے عذاب سے پناہ، امت میں اختلاف، اور اللہ کی قدرت ہے۔ یہاں دعا کا انداز بھی صاف ہے کہ بندہ سخت آزمائش سے اللہ ہی کی پناہ مانگتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ ہر طرح کے عذاب پر قادر ہے، اس لیے بندے کو اسی سے پناہ مانگنی چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سخت عذاب کے ذکر پر فوراً اللہ کی پناہ طلب کی۔
- فرقہ بندی بھی ایک آزمائش ہے، مگر حدیث میں اسے پہلے دو عذابوں کے مقابلے میں آسان کہا گیا۔
- دعا اور پناہ مانگنا مومن کا سنجیدہ رویہ ہونا چاہیے۔
