صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۷ - دجال کی ایک واضح نشانی

دجال کی نشانی: دائیں آنکھ کانی ہوگی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۰۷

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : ذُكِرَ الدَّجَّالُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنِهِ ، وَإِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ " .

عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کانا نہیں ہے اور آپ نے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور دجال مسیح کی دائیں آنکھ کانی ہو گی، جیسے اس کی آنکھ پر انگور کا ایک اٹھا ہوا دانہ ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں دجال کی پہچان بہت صاف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے اللہ کے بارے میں یہ بات واضح فرمائی کہ اللہ کانا نہیں ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ مسیح دجال کی دائیں آنکھ کانی ہوگی۔ اس کی آنکھ ایسی ہوگی جیسے انگور کا ابھرا ہوا دانہ ہو۔ دجال کی حدیث تلاش کرنے والے عموماً دجال کی نشانی، مسیح دجال کی آنکھ، اور دجال کی پہچان جیسے الفاظ لکھتے ہیں۔ اس روایت کا مقصد یہی ہے کہ دجال کے فریب سے بچنے کے لیے اس کی ایک نمایاں پہچان یاد رکھی جائے، اور اللہ کی شان کو دجال سے صاف جدا سمجھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دجال کی دائیں آنکھ کانی ہوگی، یہ اس کی واضح نشانی ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی شان کو دجال کی کمزوری سے الگ کر کے بیان فرمایا۔
  • دجال کے بارے میں علم رکھنا فتنہ سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔
  • حدیث میں دجال کی پہچان مختصر مگر بہت واضح انداز میں بتائی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں