صحیح بخاری حدیث ۳۴۳۹ - دجال کی نشانی اور اللہ کی پاکی
دجال کی نشانی: داہنی آنکھ سے کانا ہونا
صحیح بخاری : ۳۴۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۳۹
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ " ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَيِ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ .
عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے، لیکن دجال داہنی آنکھ سے کانا ہو گا، اس کی آنکھ اٹھے ہوئے انگور کی طرح ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں دجال کی ایک واضح نشانی بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔ پھر دجال کے بارے میں بتایا کہ وہ داہنی آنکھ سے کانا ہو گا، اور اس کی آنکھ اٹھے ہوئے انگور کی طرح ہو گی۔ حدیث کا مقصد دجال کے بارے میں ایک پہچان بتانا ہے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی شان کو ہر عیب سے پاک بیان کرنا ہے۔ اس میں بہت احتیاط کا سبق بھی ہے کہ دجال کی بات میں فتنہ ہو گا، مگر اس کی نشانیاں بھی بیان کر دی گئی ہیں۔ دجال کی حدیث اردو میں تلاش کرنے والے عموماً یہی نشانیاں جاننا چاہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہے۔
- دجال کی داہنی آنکھ کی خاص نشانی بیان ہوئی۔
- فتنوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
