صحیح بخاری حدیث ۳۴۳۸ - عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کا ذکر
عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۳۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عِيسَى ومُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ ، وَأَمَّا مُوسَى فَآدَمُ جَسِيمٌ سَبْطٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نہایت سرخ گھونگھریالے بال والے اور چوڑے سینے والے تھے اور موسیٰ علیہ السلام گندم گوں دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے کوئی قبیلہ زط کا آدمی ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ سرخ، گھونگھریالے بال والے اور چوڑے سینے والے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ گندم گوں، دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے، جیسے قبیلہ زط کا کوئی آدمی ہو۔ حدیث میں اصل بات یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جلیل القدر انبیاء کا مشاہدہ بیان فرمایا۔ اس طرح انبیاء کے بارے میں احترام کے ساتھ وہی بات کہنا چاہیے جو حدیث میں آئی ہے، نہ اس میں اپنی طرف سے اضافہ کیا جائے اور نہ کمی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء علیہم السلام کا ذکر ادب کے ساتھ کرنا چاہیے۔
- حدیث میں عیسیٰ اور موسیٰ علیہما السلام کے حلیے کا مختصر بیان آیا ہے۔
- دینی خبر میں وہی بات کہنی چاہیے جو معتبر روایت میں بیان ہو۔
