صحیح بخاری حدیث ۳۴۳۷ - معراج میں دودھ کا انتخاب اور فطرت

معراج میں دودھ کا انتخاب اور فطرت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۳۷

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ وَحَدَّثَنِي مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ لَقِيتُ مُوسَى ، قَالَ : فَنَعَتَهُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ ، قَالَ : مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، قَالَ : وَلَقِيتُ عِيسَى فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي الْحَمَّامَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ ، قَالَ : وَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا لَبَنٌ وَالْآخَرُ فِيهِ خَمْرٌ ، فَقِيلَ لِي : خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ ، فَقِيلَ لِي : هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس رات میری معراج ہوئی، میں نے موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کیا وہ .... میرا خیال ہے کہ معمر نے کہا .... دراز قامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کے لوگ ہوتے ہیں۔آپ نے بیان کیا کہ میں نے عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حلیہ بیان فرمایا کہ درمیانہ قد اور سرخ و سپید تھے، جیسے ابھی ابھی غسل خانے سے باہر آئے ہوں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام سے بھی ملاقات کی تھی اور میں ان کی اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب۔ مجھ سے کہا گیا کہ جو آپ کا جی چاہے لے لو۔ میں نے دودھ کا برتن لے لیا اور پی لیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ فطرت کی آپ نے راہ پا لی، یا فطرت کو آپ نے پا لیا۔ اس کے بجائے اگر آپ شراب کا برتن لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۳۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں شب معراج کا ایک حصہ اور فطرت کا اہم سبق بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کی رات آپ نے موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کی۔ روایت میں ان کے حلیے کا بھی ذکر آیا۔ پھر آپ کے پاس دو برتن لائے گئے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب۔ آپ سے کہا گیا کہ جسے چاہیں لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا برتن لیا اور پی لیا۔ پھر کہا گیا کہ آپ نے فطرت کی راہ پا لی، اور اگر آپ شراب کا برتن لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ اس حدیث میں دودھ کا انتخاب فطرت کے ساتھ جوڑا گیا ہے، اور شراب کے مقابلے میں صحیح راستے کی اہمیت واضح ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کو منتخب کیا اور اسے فطرت سے جوڑا گیا۔
  • معراج میں انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کا ذکر آیا۔
  • امت کی ہدایت کے معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب اہم بتایا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں