صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۸ - ہر نبی نے دجال سے ڈرایا
دجال کا فتنہ اور ہر نبی کی تنبیہ
صحیح بخاری : ۷۴۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۰۸
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَ قَوْمَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جتنے نبی بھیجے ان سب نے جھوٹے کانے دجال سے اپنی قوم کو ڈرایا، وہ دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب (آنکھوں والا ہے) کانا نہیں ہے، اس دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہو گا (لفظ) کافر۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث دجال کے فتنہ کی سنگینی بتاتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جو بھی نبی بھیجا، اس نے اپنی قوم کو جھوٹے کانے دجال سے ڈرایا۔ اس میں دجال کی دو باتیں خاص طور پر آئیں: وہ کانا ہوگا، اور جھوٹا ہوگا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ دجال کی حدیث، دجال کی نشانی، اور دجال کے فتنہ جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے بہت قریب ہیں۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ دجال کا معاملہ معمولی نہیں، اسی لیے انبیاء نے اپنی قوموں کو اس سے خبردار کیا، اور مومن کو اللہ کی شان اور دجال کے جھوٹ میں فرق واضح رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نبی نے اپنی قوم کو دجال کے فتنہ سے خبردار کیا۔
- دجال جھوٹا اور کانا ہوگا، یہ حدیث میں صاف بیان ہے۔
- اللہ کی شان دجال کی کمزوریوں سے پاک ہے۔
- دجال کی پہچان جاننا دینی آگاہی کا حصہ ہے۔
