صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۹ - پیدائش اور اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر
تقدیر کی حدیث: جس جان کو اللہ پیدا کرے گا وہ پیدا ہوگی
صحیح بخاری : ۷۴۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۴۰۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى هُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ أَنَّهُمْ أَصَابُوا سَبَايَا ، فَأَرَادُوا أَنْ يَسْتَمْتِعُوا بِهِنَّ وَلَا يَحْمِلْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ ؟ ، فَقَالَ : " مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " وَقَالَ مُجَاهِدٌ ، عَنْ قَزَعَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، فَقَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا " .
ابو سعید خدری روایت:
غزوہ بنو المصطلق میں انہیں باندیاں غنیمت میں ملیں تو انہوں نے چاہا کہ ان سے ہمبستری کریں لیکن حمل نہ ٹھہرے۔ چنانچہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم عزل بھی کرو تو کوئی قباحت نہیں مگر قیامت تک جس جان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا لکھ دیا ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی (اس لیے تمہارا عزل کرنا بیکار ہے۔ موجودہ جبری نسل بندی کا جواز اس سے نکالنا بالکل غلط ہے۔ اور مجاہد نے قزعہ سے بیان کیا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی جان جو پیدا ہونی ہے، اللہ تعالیٰ ضرور اسے پیدا کر کے رہے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۴۰۹ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ بنو المصطلق کے موقع کے ایک سوال سے متعلق ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عزل کے بارے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرو تو بھی تم پر کوئی حرج نہیں، کیونکہ قیامت تک جس جان کو اللہ نے پیدا کرنا لکھ دیا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ دوسری روایت کے الفاظ میں آیا کہ کوئی بھی جان جو پیدا ہونی ہے، اللہ اسے پیدا کرے گا۔ اس حدیث کا اصل موضوع تقدیر، پیدائش، اور اللہ کی تخلیق ہے۔ اس میں انسان کے عمل کا ذکر ہے، مگر نتیجے کو اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس لیے اس روایت کو سمجھتے وقت الفاظ کے اندر رہنا ضروری ہے، یعنی بات خاص طور پر پیدا ہونے والی جان کے بارے میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس جان کی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے، وہ پیدا ہو کر رہے گی۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم دینی معاملہ پیش آنے پر نبی صلى الله عليه وسلم سے سوال کرتے تھے۔
- پیدائش اور تخلیق کا آخری فیصلہ اللہ کے علم اور تقدیر میں ہے۔
- حدیث کو اسی خاص مسئلے اور الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
