صحیح بخاری حدیث ۴۱۳۸ - عزل، سوال اور تقدیر

عزل کی حدیث: سوال کرنے کا ادب اور تقدیر کا بیان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۳۸

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ , أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ , فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ , فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ , فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ وَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ , فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ : " مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ " .

ابومحیریز روایت:

میں مسجد میں داخل ہوا تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اندر موجود تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے عزل کے متعلق ان سے سوال کیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی المصطلق کے لیے نکلے۔ اس غزوہ میں ہمیں کچھ عرب کے قیدی ملے (جن میں عورتیں بھی تھیں) پھر اس سفر میں ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور بے عورت رہنا ہم پر مشکل ہو گیا۔دوسری طرف ہم عزل کرنا چاہتے تھے (اس خوف سے کہ بچہ نہ پیدا ہو) ہمارا ارادہ یہی تھا کہ عزل کر لیں لیکن پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔ آپ سے پوچھے بغیر عزل کرنا مناسب نہ ہو گا۔ چنانچہ ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم عزل نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ قیامت تک جو جان پیدا ہونے والی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع عزل اور تقدیر ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے غزوہ بنی المصطلق کا واقعہ بیان کیا۔ صحابہؓ کو قیدی عورتیں ملیں، انہیں عزل کا ارادہ ہوا، لیکن انہوں نے سوچا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم موجود ہیں، آپ سے پوچھے بغیر ایسا کرنا مناسب نہیں۔ پھر انہوں نے آپ صلى الله عليه وسلم سے سوال کیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرو تو بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ قیامت تک جو جان پیدا ہونے والی ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ عزل کی حدیث، عزل کا حکم، تقدیر اور پیدائش، اور بنی المصطلق کے الفاظ اسی حدیث سے جڑتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہم معاملے میں صحابہؓ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے سوال کیا۔
  • حدیث میں عزل کے مسئلے پر سوال اور جواب نقل ہوا ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پیدا ہونے والی جانوں کے بارے میں تقدیر کا ذکر فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں