صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۸ - پھوپھی اور بھتیجی کو جمع نہ کیا جائے
پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی کو نکاح میں جمع نہ کرنا
صحیح مسلم : ۳۴۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۳۸
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ مَدَنِيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ وَلَدِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُنْكَحُ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ الْأَخِ ، وَلَا ابْنَةُ الْأُخْتِ عَلَى الْخَالَةِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فرماتے تھے کہ ”پھوپھی سے نکاح نہ کیا جائے جب بھتیجی اس کے نکاح میں ہو اور بھانجی سے نکاح نہ کیا جائے جب خالہ نکاح میں ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۸ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ پھوپھی کو بھتیجی پر نکاح میں نہ لایا جائے، اور بھانجی کو خالہ پر نکاح میں نہ لایا جائے۔ اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ اگر ایک عورت نکاح میں ہو تو اس کے ساتھ اس کی پھوپھی یا خالہ جیسے قریبی رشتے کو اسی نکاح میں جمع نہیں کیا جائے گا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر نکاح کے رشتوں میں ایک واضح حد بتاتے ہیں۔ یہ روایت خاندانی رشتوں کے احترام اور نکاح کے شرعی اصول کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، لیکن اس سے زائد تفصیلات اسی متن میں موجود نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پھوپھی کو بھتیجی پر نکاح میں لانے سے منع کیا گیا۔
- بھانجی کو خالہ پر نکاح میں لانے سے منع کیا گیا۔
- نکاح میں قریبی رشتوں کی حدیں واضح رکھی گئی ہیں۔
- حدیث کا حکم عام فہم اور براہ راست ہے۔
