صحیح بخاری حدیث ۵۱۱۱ - رضاعت سے حرام ہونے والے رشتے

رضاعت سے حرام رشتے: مختصر مگر جامع حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۱۱

لِأَنَّ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ .

عائشہ روایت:

رضاعت سے بھی ان تمام رشتوں کو حرام سمجھو جو خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۱۱ کا خلاصہ

یہ حدیث بہت مختصر ہے، مگر نکاح کے باب میں ایک بڑا اصول بیان کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان ہے کہ رضاعت سے بھی ان تمام رشتوں کو حرام سمجھو جو خون کے رشتے یعنی نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ آسان لفظوں میں، دودھ پینے کا رشتہ نکاح کے حکم میں اثر رکھتا ہے۔ یہ صرف محبت یا پرورش کا نام نہیں، بلکہ ایک شرعی رشتہ بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے رضاعت کی حدیث، رضاعی رشتہ، اور محرم رشتے نکاح جیسے موضوعات میں یہ روایت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیث کا متن ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ نسب کے رشتوں کی طرح رضاعت کے رشتوں کو بھی سنجیدگی سے سمجھا جائے، خاص طور پر نکاح سے پہلے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رضاعت سے بھی نکاح کی حرمت ثابت ہو سکتی ہے۔
  • جو رشتے نسب سے حرام ہیں، وہ رضاعت سے بھی حرام سمجھے جائیں گے۔
  • نکاح سے پہلے رضاعی رشتوں کی معلومات لینا ضروری ہے۔
  • مختصر حدیث بھی ایک عام اصول واضح کر سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں