صحیح بخاری حدیث ۵۱۲۳ - درہ بنت ابی سلمہ اور رضاعت کا رشتہ
درہ بنت ابی سلمہ کی حدیث: ربیبہ اور رضاعی رشتہ
صحیح بخاری : ۵۱۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۲۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَنَّكَ نَاكِحٌ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، لَمْ أَنْكِحْ أُمَّ سَلَمَةَ مَا حَلَّتْ لِي ، إِنَّ أَبَاهَا أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " .
زینب بنت ابی سلمہ روایت:
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں اس سے اس کے باوجود نکاح کر سکتا ہوں کہ (ان کی ماں) ام سلمہ میرے نکاح میں پہلے ہی سے موجود ہے اور اگر میں ام سلمہ سے نکاح نہ کئے ہوتا جب بھی وہ درہ میرے لیے حلال نہیں تھی۔ کیونکہ اس کے والد (ابوسلمہ رضی اللہ عنہ) میرے رضاعی بھائی تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں ان سے اس حال میں نکاح کر سکتا ہوں کہ ام سلمہ میرے نکاح میں پہلے سے موجود ہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں نے ام سلمہ سے نکاح نہ بھی کیا ہوتا تب بھی درہ میرے لیے حلال نہ ہوتیں، کیونکہ ان کے والد میرے رضاعی بھائی تھے۔ یہ روایت رضاعت کی حدیث اور محرم رشتوں کا حکم واضح کرتی ہے۔ یہاں دو پہلو آتے ہیں: بیوی کی بیٹی کا تعلق، اور رضاعی بھائی کی بیٹی کا تعلق۔ دونوں باتیں نکاح کے مسئلے میں اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- درہ بنت ابی سلمہ کے بارے میں ربیبہ کا پہلو بیان ہوا۔
- ان کے والد کے رضاعی بھائی ہونے کی وجہ سے نکاح حلال نہ تھا۔
- رضاعت کا رشتہ نکاح کی حرمت میں اثر رکھتا ہے۔
- نکاح سے پہلے رشتے کی اصل نوعیت معلوم کرنا ضروری ہے۔
