صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۹ - پھوپھی خالہ کو نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت
عورت اور اس کی پھوپھی یا خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنے کا حکم
صحیح مسلم : ۳۴۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۳۹
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ الْكَعْبِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَنُرَى خَالَةَ أَبِيهَا ، وَعَمَّةَ أَبِيهَا ، بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے لیے بھتیجی اور پھوپھی اور خالہ اور بھانجی کو جمع کرنے کو منع قرار دیا۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ ہم کسی بھی عورت کے باپ کی خالہ اور پھوپھی کو اسی طرح سمجھتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے لیے بھتیجی اور پھوپھی، اور خالہ اور بھانجی کو جمع کرنے سے منع فرمایا۔ روایت کے آخر میں ابن شہاب کا قول بھی نقل ہوا کہ وہ عورت کے باپ کی خالہ اور پھوپھی کو بھی اسی درجے میں سمجھتے تھے۔ اصل حدیث میں حکم یہ ہے کہ ایک مرد ایسی دو قریبی رشتہ دار عورتوں کو ایک نکاح میں جمع نہ کرے۔ یہ نکاح کے مسائل میں بہت صاف اصول ہے۔ اس روایت میں خاندانی رشتوں کی احتیاط بیان ہوئی ہے، اور متن کے مطابق بات اسی ممانعت کے گرد رہتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بھتیجی اور پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کیا گیا۔
- خالہ اور بھانجی کو بھی ایک نکاح میں جمع کرنے سے منع کیا گیا۔
- ابن شہاب نے باپ کی خالہ اور پھوپھی کو بھی اسی درجے میں سمجھا۔
- نکاح کے رشتوں میں قریبی تعلقات کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
