صحیح مسلم حدیث ۳۴۴۰ - خالہ اور پھوپھی پر نکاح کی ممانعت
عورت کو اس کی خالہ یا پھوپھی پر نکاح میں نہ لایا جائے
صحیح مسلم : ۳۴۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۴۰
وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " ،
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اپنی خالہ اور پھوپھی پر نکاح سے منع کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۳۴۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کو اس کی پھوپھی پر نکاح میں نہ لایا جائے، اور نہ اس کی خالہ پر۔ یہ بات نکاح کے قریبی رشتوں سے متعلق ایک واضح حکم ہے۔ عام الفاظ میں اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک عورت نکاح میں ہے تو اسی کے ساتھ اس کی پھوپھی یا خالہ کو بھی نکاح میں جمع نہیں کیا جائے گا۔ یہ حدیث مختصر ہے، مگر نکاح کے مسائل میں بہت اہم ہے، خاص طور پر پھوپھی بھتیجی نکاح اور خالہ بھانجی نکاح کے سوالات میں۔ متن کے اندر بات صاف ہے، اس لیے اس میں کوئی اضافی حکم شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عورت کو اس کی پھوپھی پر نکاح میں لانے سے منع کیا گیا۔
- عورت کو اس کی خالہ پر نکاح میں لانے سے بھی منع کیا گیا۔
- ایک نکاح میں ایسے قریبی رشتوں کو جمع نہیں کیا جاتا۔
- حدیث نکاح کے خاندانی رشتوں کی حد واضح کرتی ہے۔
