صحیح بخاری حدیث ۴۱۳۹ - توکل علی اللہ اور عفو
اللہ پر توکل کی حدیث: تلوار کے سامنے ایک جواب
صحیح بخاری : ۴۱۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۳۹
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ نَجْدٍ , فَلَمَّا أَدْرَكَتْهُ الْقَائِلَةُ وَهُوَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَاسْتَظَلَّ بِهَا , وَعَلَّقَ سَيْفَهُ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الشَّجَرِ يَسْتَظِلُّونَ , وَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجِئْنَا فَإِذَا أَعْرَابِيٌّ قَاعِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ , فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا أَتَانِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاخْتَرَطَ سَيْفِي , فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِي مُخْتَرِطٌ صَلْتًا , قَالَ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي ؟ قُلْتُ : اللَّهُ , فَشَامَهُ ثُمَّ قَعَدَ فَهُوَ هَذَا " , قَالَ : وَلَمْ يُعَاقِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کے لیے گئے۔ دوپہر کا وقت ہوا تو آپ ایک جنگل میں پہنچے جہاں ببول کے درخت بہت تھے۔ آپ نے گھنے درخت کے نیچے سایہ کے لیے قیام کیا اور درخت سے اپنی تلوار ٹکا دی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی درختوں کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے پھیل گئے۔ابھی ہم اسی کیفیت میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم حاضر ہوئے تو ایک بدوی آپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص میرے پاس آیا تو میں سو رہا تھا۔ اتنے میں اس نے میری تلوار کھینچ لی اور میں بھی بیدار ہو گیا۔ یہ میری ننگی تلوار کھینچے ہوئے میرے سر پر کھڑا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا آج مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! (وہ شخص صرف ایک لفظ سے اتنا مرعوب ہوا کہ) تلوار کو نیام میں رکھ کر بیٹھ گیا اور دیکھ لو۔ یہ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۳۹ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اللہ پر توکل اور نرمی کا ایک واضح واقعہ بیان کرتی ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ میں گئے۔ دوپہر کو آپ صلى الله عليه وسلم ایک درخت کے نیچے ٹھہرے اور تلوار لٹکا دی۔ ایک بدوی آیا، آپ صلى الله عليه وسلم سو رہے تھے، اس نے تلوار کھینچی۔ آپ صلى الله عليه وسلم بیدار ہوئے تو وہ ننگی تلوار لیے سر پر کھڑا تھا۔ اس نے پوچھا: مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اللہ۔ پھر اس نے تلوار نیام میں رکھی اور بیٹھ گیا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اسے سزا نہیں دی۔ توکل علی اللہ، تلوار والی حدیث، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی معافی اس کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خطرے کے وقت اللہ کا نام لیا۔
- بدوی نے تلوار کھینچی، مگر آپ صلى الله عليه وسلم ثابت قدم رہے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے اس شخص کو سزا نہیں دی۔
