صحیح بخاری حدیث ۵۲۱۰ - عزل اور تقدیر کا سبق
عزل اور تقدیر: ہر پیدا ہونے والی روح پیدا ہو گی
صحیح بخاری : ۵۲۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۱۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " أَصَبْنَا سَبْيًا فَكُنَّا نَعْزِلُ ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَوَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ، قَالَهَا ثَلَاثًا ، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ " .
ابو سعید خدری روایت:
ایک غزوہ میں) ہمیں قیدی عورتیں ملیں اور ہم نے ان سے عزل کیا۔ پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم واقعی ایسا کرتے ہو؟ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا (پھر فرمایا) قیامت تک جو روح بھی پیدا ہونے والی ہے وہ (اپنے وقت پر) پیدا ہو کر رہے گی۔ پس تمہارا عزل کرنا عبث حرکت ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۱۰ کا خلاصہ
یہ حدیث عزل اور تقدیر کے تعلق کو بیان کرتی ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر قیدی عورتیں ملیں اور صحابہ نے عزل کیا، پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ کیا تم واقعی ایسا کرتے ہو؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ قیامت تک جو روح بھی پیدا ہونے والی ہے، وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ اس حدیث میں اصل زور اس بات پر ہے کہ اللہ کے علم اور تقدیر سے کوئی چیز باہر نہیں۔ عزل کی حدیث کو پڑھتے ہوئے ہمیں متن کے الفاظ تک رہنا چاہیے۔ یہاں نبی صلى الله عليه وسلم نے انسانی تدبیر کے مقابلے میں اللہ کی مقرر کی ہوئی بات کو یاد دلایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جو روح اللہ کے علم میں پیدا ہونی ہے، وہ اپنے وقت پر پیدا ہو گی۔
- صحابہ نے مسئلہ پیش آیا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا۔
- انسانی تدبیر کے ساتھ اللہ کی تقدیر کو یاد رکھنا چاہیے۔
