صحیح بخاری حدیث ۵۱۵۲ - سوکن کی طلاق کی شرط

سوکن کی طلاق کی شرط والی حدیث: قناعت اور عدل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۵۲

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ هُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ اپنی کسی (سوکن) بہن کی طلاق کی شرط اس لیے لگائے تاکہ اس کے حصہ کا پیالہ بھی خود انڈیل لے کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے مقدر میں ہو گا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک خاص شرط سے روکا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی کسی بہن یعنی سوکن کی طلاق کی شرط لگائے تاکہ اس کے حصے کا پیالہ بھی خود لے لے۔ پھر فرمایا کہ اسے وہی ملے گا جو اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ سوکن کی طلاق کی شرط والی حدیث میں نکاح کے معاملے میں خود غرضی اور دوسرے کا حق ختم کرانے کی خواہش سے بچنے کی تعلیم ملتی ہے۔ متن میں صاف بات ہے کہ کسی دوسری عورت کی طلاق کو اپنی شرط بنانا درست نہیں۔ اس حدیث کا پیغام قناعت، حد میں رہنا اور دوسرے کے حصے پر نظر نہ رکھنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دوسری عورت کی طلاق کو اپنی شرط بنانا درست نہیں۔
  • نکاح کے معاملے میں خود غرضی سے بچنا چاہیے۔
  • ہر شخص کو وہی ملتا ہے جو اس کے لیے مقرر ہے۔
  • دوسرے کے حصے پر نظر رکھنا اچھی بات نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں