صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۹ - قرآن کے ذریعے نکاح
قرآن پر نکاح کی حدیث: مہر، استطاعت اور آسانی
صحیح بخاری : ۵۱۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۴۹
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ : " إِنِّي لَفِي الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَتِ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ ، فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ ؟ فَلَمْ يُجِبْهَا شَيْئًا ، ثُمَّ قَامَتْ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ ، فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ ؟ فَلَمْ يُجِبْهَا شَيْئًا ، ثُمَّ قَامَتِ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ ، فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ ؟ فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْكِحْنِيهَا ، قَالَ : هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَذَهَبَ فَطَلَبَ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ : مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَقَالَ : هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا ، قَالَ : اذْهَبْ فَقَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
سہل بن سعد ساعدی روایت:
میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اس میں ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں آپ اب جو چاہیں کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ پھر کھڑی ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے آپ جو چاہیں کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ تیسری مرتبہ کھڑی ہوئیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دیا، آپ جو چاہیں کریں۔اس کے بعد ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ایک لوہے کی انگوٹھی بھی اگر مل جائے لے آؤ۔وہ گئے اور تلاش کیا، پھر واپس آ کر عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں پایا، لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ قرآن ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ میرے پاس فلاں فلاں سورتیں ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن پر کیا جو تم کو یاد ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا۔ پھر ایک صحابی نے عرض کیا کہ ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کر لو، مگر وہ بھی نہ ملی۔ پھر پوچھا کہ کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟ انہوں نے چند سورتوں کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارا نکاح اس قرآن پر کیا جو تمہیں یاد ہے۔ قرآن پر نکاح کی حدیث میں نکاح کے معاملے میں استطاعت، مہر کی تلاش اور آخر میں یاد قرآن کا ذکر صاف طور پر موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کے لیے کچھ تلاش کرنے کا حکم دیا گیا۔
- لوہے کی انگوٹھی جیسی معمولی چیز بھی دیکھی گئی۔
- صحابی کے پاس قرآن یاد ہونا اس واقعے میں اہم بنا۔
- نکاح کے معاملے میں سوال و جواب سے وضاحت کی گئی۔
