صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۸ - نکاح کا مہر اور سادگی
مہر کی حدیث: نکاح میں سادگی اور خوشی
صحیح بخاری : ۵۱۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۴۸
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَاشَةَ الْعُرْسِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ " . وَعَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ .
انس روایت:
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر (سونے کے مہر پر) نکاح کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کی خوشی ان میں دیکھی تو ان سے پوچھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر نکاح کیا ہے اور قتادہ رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے۔ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۸ کا خلاصہ
یہ حدیث نکاح کے مہر کے بارے میں ہے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا اور مہر ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونا مقرر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے یا حال میں شادی کی خوشی دیکھی تو پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نکاح کر لیا ہے۔ حدیث میں مہر کی مقدار کا ذکر آتا ہے، مگر متن میں اس مقدار کو ہر شخص کے لیے لازم نہیں کہا گیا۔ اس لیے مہر کی حدیث سے اصل بات یہ سمجھ آتی ہے کہ نکاح میں مہر کا ذکر موجود ہے اور شادی کی خوشی ایک فطری بات ہے۔ اس واقعے میں سادگی، وضاحت اور نکاح کے معاملے کو صاف لفظوں میں بیان کرنا دکھائی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح میں مہر کا ذکر واضح طور پر آیا ہے۔
- شادی کی خوشی چہرے اور حال سے ظاہر ہو سکتی ہے۔
- نکاح کے معاملے میں صاف بات کرنا بہتر ہے۔
- حدیث میں سادہ مہر کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔
