صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۷ - نکاح میں جائز خوشی اور غلو سے بچاؤ
نکاح میں دف بجانے کی حدیث اور درست الفاظ کی اہمیت
صحیح بخاری : ۵۱۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۴۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، قَالَ : قَالَتْ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ : " جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي ، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ ، إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ : وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ ، فَقَالَ : دَعِي هَذِهِ ، وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ " .
ربیع بنت معوذ ابن عفراء روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جب میں دلہن بنا کر بٹھائی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے اسی طرح جیسے تم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں۔ اتنے میں، ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا، اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتوں کی خبر رکھتے ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چھوڑ دو۔ اس کے سوا جو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نکاح کی خوشی کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا دلہن بنی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے پاس بیٹھے۔ کچھ لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور بدر میں شہید ہونے والے رشتہ داروں کا ذکر کر رہی تھیں۔ پھر ایک لڑکی نے کہا کہ ہمارے درمیان ایک نبی ہیں جو کل ہونے والی باتیں جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جملے سے روک دیا اور فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، باقی جو پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو۔ نکاح میں دف بجانے کی حدیث سے اتنی بات واضح ہے کہ خوشی کے موقع پر الفاظ کا خیال رکھنا ضروری ہے، خاص طور پر ایسی بات نہ کہی جائے جو متن کے مطابق درست نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شادی کی خوشی میں الفاظ کا انتخاب درست ہونا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط جملے سے فوراً روکا۔
- جائز خوشی کے ساتھ عقیدے کی احتیاط بھی ضروری ہے۔
- مرثیہ یا شعر میں حد سے بڑھی ہوئی بات نہیں کہنی چاہیے۔
