صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۶ - بیان کا اثر اور سچائی

بیان میں جادو حدیث: زبان کے اثر کو سمجھیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۴۶

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " .

ابن عمر روایت:

دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے، وہ مسلمان ہو گئے اور خطبہ دیا، نہایت فصیح و بلیغ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کرتی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع بیان اور گفتگو کا اثر ہے۔ دو آدمی مشرق کی طرف سے آئے، مسلمان ہوئے اور انہوں نے بہت فصیح خطبہ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی تقریر، نرم انداز اور مضبوط الفاظ سننے والے کے دل پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ لیکن حدیث میں صرف بیان کے اثر کا ذکر ہے، اس لیے اسے ہر تقریر کی تعریف یا ہر فصیح گفتگو کی برائی نہیں کہنا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ زبان بڑی اثر والی چیز ہے۔ بیان میں جادو حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تقریر، خطبہ اور گفتگو میں سچائی اور احتیاط لازم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فصیح گفتگو دلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
  • زبان کے اثر کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • بیان میں سچائی اور احتیاط ضروری ہے۔
  • ہر خوبصورت بات کو بغیر سوچے قبول نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں