صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۵ - رشتہ، راز داری اور امانت
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ اور راز داری کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۱۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۴۵
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ ، " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ ، قَالَ عُمَرُ : لَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ، ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلَّا أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا " . تَابَعَهُ يُونُسُ ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
عمر روایت:
میری بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح عزیزہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں۔پھر کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا راز کھولوں ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کر لیتا۔شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یونس بن یزید اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن ابی عتیق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ان کی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمر کا نکاح آپ سے کر دوں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس وقت جواب نہیں دیا۔ کچھ دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا پیغام بھیجا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ انہوں نے جواب اس لیے نہیں دیا تھا کہ انہیں معلوم تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے، اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس حدیث میں رشتہ، ادب، امانت اور راز داری کا خوبصورت سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کا راز معلوم ہو تو اسے بلا ضرورت ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔
- نکاح کے معاملے میں ادب اور احتیاط سے بات کرنی چاہیے۔
- بیوہ کے لیے اچھا رشتہ تلاش کرنا باوقار عمل ہو سکتا ہے۔
- جواب نہ ملنے پر فوراً بدگمانی نہیں کرنی چاہیے، کوئی معقول وجہ بھی ہو سکتی ہے۔
