صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۲ - دوسرے کے پیغام نکاح پر پیغام نہیں

دوسرے کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجنے کی ممانعت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۴۲

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَ يَقُولُ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی (دینی) بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجیں یہاں تک کہ پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۲ کا خلاصہ

یہ حدیث معاملات اور نکاح دونوں میں ادب سکھاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص دوسرے کے بھاؤ پر بھاؤ نہ لگائے، اور کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجے۔ البتہ اگر پہلے پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ چھوڑ دے یا اجازت دے دے، تو پھر دوسرا شخص پیغام بھیج سکتا ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ نکاح کے رشتے میں جلد بازی، مقابلہ بازی یا کسی کے معاملے میں بے جا دخل مناسب نہیں۔ جب ایک رشتہ بات چیت کے مرحلے میں ہو تو دوسروں کو اس کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ باہمی احترام، اعتماد اور صاف معاملات کی تعلیم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کے جاری پیغام نکاح پر اپنا پیغام نہیں بھیجنا چاہیے۔
  • اگر پہلا شخص ارادہ چھوڑ دے یا اجازت دے تو گنجائش ہے۔
  • معاملات میں دوسروں کے حق اور عزت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • نکاح کے رشتوں میں مقابلہ بازی اور بے جا دخل سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں