صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۳ - بدگمانی اور جاسوسی سے بچو
بدگمانی، جاسوسی اور دشمنی سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۱۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۴۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَجَسَّسُوا ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَكُونُوا إِخْوَانًا .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے (اور لوگوں کے رازوں کی) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ (لوگوں کی نجی گفتگووں کو) کان لگا کر سنو، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر رہو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۴۳ کا خلاصہ
یہ حدیث مسلمانوں کے باہمی تعلقات کو صاف رکھنے کا سبق دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھود کرید، لوگوں کی نجی باتیں سننے اور آپس میں دشمنی سے منع فرمایا۔ آخر میں بھائی بھائی بن کر رہنے کی ہدایت دی۔ اس حدیث کا موضوع بدگمانی، تجسس اور اخوت ہے۔ یہ بات نکاح، خاندان، رشتوں اور عام معاشرت سب پر اثر ڈالتی ہے، کیونکہ بدگمانی اور راز ٹٹولنے سے اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ ہر بات پر آنکھ بند کر لی جائے، بلکہ متن کے مطابق بے بنیاد گمان، جاسوسی، کان لگا کر سننے اور نفرت پھیلانے سے بچنے کا حکم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بدگمانی سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ بہت جھوٹی بات بن سکتی ہے۔
- لوگوں کے رازوں کی کھود کرید نہیں کرنی چاہیے۔
- دوسروں کی نجی گفتگو کان لگا کر سننا منع ہے۔
- مسلمانوں کو باہمی نفرت کے بجائے بھائی بھائی بن کر رہنا چاہیے۔
