صحیح بخاری حدیث ۵۱۲۹ - بیوہ کے نکاح کے لیے مناسب پیشکش
بیوہ کے نکاح کے لیے اچھا رشتہ پیش کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۱۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۲۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، " أَنَّ عُمَرَ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ ابْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ ، أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ ، فَقَالَ : سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي ، فَقَالَ : بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا ، قَالَ عُمَرُ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما ابن حذافہ سہمی سے بیوہ ہوئیں۔ ابن حذافہ رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے اور بدر کی جنگ میں شریک تھے ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہیں پیش کش کی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں۔انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا چند دن میں نے انتظار کیا اس کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ابھی نکاح نہ کروں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل بیان ہوا ہے کہ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو انہوں نے ان کے نکاح کے لیے مناسب اور نیک لوگوں سے بات کی۔ پہلے انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کر دوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غور کرنے کا کہا، پھر بتایا کہ ابھی نکاح کا ارادہ نہیں۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی بات کی۔ اس حدیث کا اصل موضوع بیوہ کا نکاح، خیر خواہی اور مناسب رشتہ تلاش کرنا ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ والد یا سرپرست اپنی بیٹی کے لیے باوقار انداز میں نیک رشتہ پیش کر سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوہ کے نکاح کے لیے مناسب رشتہ تلاش کرنا اچھا اور باوقار عمل ہے۔
- سرپرست اپنی بیٹی کے حق میں خیر خواہی کے ساتھ قدم اٹھا سکتا ہے۔
- نکاح کی پیشکش ادب اور اختیار کے ساتھ ہونی چاہیے۔
- کسی کے انکار یا تاخیر کو تحمل سے قبول کرنا چاہیے۔
