صحیح بخاری حدیث ۵۱۵۶ - شادی کی دعا اور برکت
شادی کی دعا حدیث: خیر اور برکت کی مبارکباد
صحیح بخاری : ۵۱۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۵۶
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْنِي أُمِّي فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْبَيْتِ ، فَقُلْنَ : عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے شادی کی تو میری والدہ (ام رومان بنت عامر) میرے پاس آئیں اور مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر لے گئیں۔ گھر کے اندر قبیلہ انصار کی عورتیں موجود تھیں۔ انہوں نے (مجھ کو اور میری ماں کو) یوں دعا دی «بارك وبارك الله» ”اللہ کرے تم اچھی ہو تمہارا نصیبہ اچھا ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۱۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع کا ذکر ہے۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی تو ان کی والدہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر لے گئیں۔ گھر میں انصار کی عورتیں موجود تھیں۔ انہوں نے دعا دی کہ خیر ہو، برکت ہو اور اچھا نصیب ہو۔ شادی کی دعا حدیث میں نکاح کے موقع پر خیر اور برکت کے الفاظ سامنے آتے ہیں۔ اس روایت میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ ایک سادہ گھریلو منظر ہے جس میں عورتیں دلہن کو اچھے الفاظ سے دعا دے رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی کے موقع پر مبارکباد میں دعا اور نیک الفاظ استعمال کیے گئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شادی پر خیر اور برکت کی دعا دینا اچھا عمل ہے۔
- دلہن کو اچھے الفاظ سے مبارکباد دی گئی۔
- نکاح کے موقع پر گھر والوں کا ساتھ موجود تھا۔
- دعا کے الفاظ سادہ اور بامعنی تھے۔
