صحیح بخاری حدیث ۵۱۵۷ - نیا نکاح اور سفر جنگ
نیا نکاح اور غزوہ: ازدواجی ذمہ داری کا بیان
صحیح بخاری : ۵۱۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۵۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ : لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمْ يَبْنِ بِهَا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ انبیاء میں سے ایک نبی (یوشع علیہ السلام یا داؤد علیہ السلام) نے غزوہ کیا اور (غزوہ سے پہلے) اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ چلے جس نے کسی نئی عورت سے شادی کی ہو اور اس کے ساتھ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور ابھی صحبت نہ کی ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ انبیاء میں سے ایک نبی کا واقعہ بیان فرمایا۔ انہوں نے غزوہ کے موقع پر اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ شخص نہ چلے جس نے کسی نئی عورت سے شادی کی ہو، اس کے ساتھ رہنے کا ارادہ رکھتا ہو، مگر ابھی اس کے ساتھ خلوت نہ کی ہو۔ نیا نکاح اور غزوہ والی حدیث میں ایک خاص حالت کا ذکر ہے۔ اس میں شادی کے بعد ادھورے معاملے اور جنگی سفر کے درمیان تعلق بیان ہوا ہے۔ متن ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ ہر سفر یا ہر کام کا یہی حکم ہے، بلکہ اسی واقعے کی حد تک بات کرتا ہے۔ اس سے اتنا سمجھ آتا ہے کہ بعض حالات میں ازدواجی ذمہ داری کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں گزشتہ نبی کا ایک خاص واقعہ بیان ہوا ہے۔
- نئی شادی کے بعد ادھورے معاملے کا ذکر کیا گیا۔
- غزوہ جیسے سفر میں شریک ہونے کے لیے حالات دیکھے گئے۔
- متن خاص صورت بیان کرتا ہے، اسے عام دعویٰ نہیں بنانا چاہیے۔
