صحیح بخاری حدیث ۵۱۶۰ - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی والی حدیث
صحیح بخاری : ۵۱۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۶۰
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَتْنِي أُمِّي ، فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور تنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی شادی کے ایک واقعے کو بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور مجھے اکیلے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوفزدہ نہیں کیا سوائے اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت اچانک میرے پاس تشریف لے آئے۔ حضرت عائشہ کی رخصتی والی حدیث ایک مختصر ذاتی بیان ہے۔ اس میں گھر میں داخل کیے جانے، والدہ کے ساتھ ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاشت کے وقت آنے کا ذکر ہے۔ اس روایت کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے، کیونکہ متن میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا واقعہ خود بیان کیا۔
- والدہ کے ذریعے گھر میں لے جانے کا ذکر ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چاشت کے وقت آنے کا بیان ہے۔
- مختصر روایت میں اضافی تفصیلات شامل نہیں کرنی چاہئیں۔
