صحیح بخاری حدیث ۵۱۵۹ - صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ
صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ: سادہ کھانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۱۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۵۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ ، أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَقَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (راستہ میں) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔مسلمانوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں (کہا کہ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے (کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لیے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ جب سفر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے نکاح اور ولیمہ کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان تین دن قیام کیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو ولیمہ پر بلایا۔ اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا، بلکہ دسترخوان پر کھجور، پنیر اور گھی رکھا گیا۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ پھر مسلمانوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے مقام کے بارے میں بات کی۔ جب سفر شروع ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سواری پر جگہ بنائی اور لوگوں کے درمیان پردہ کرایا۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ سادگی اور پردے کے ذکر کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولیمہ سادہ کھانے کے ساتھ بھی ہوا۔
- دعوت میں روٹی اور گوشت نہ ہونے کا خاص ذکر ہے۔
- صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے سواری پر جگہ بنائی گئی۔
- لوگوں اور ان کے درمیان پردہ کرایا گیا۔
