صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۳ - عزل اور تقدیرِ پیدائش
عزل کی حدیث: جس جان کو اللہ نے لکھا وہ پیدا ہوگی
صحیح بخاری : ۶۶۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۰۳
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الجُمَحِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا وَنُحِبُّ الْمَالَ كَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ " .
ابو سعید خدری روایت:
´ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن محیریز جمحی نے خبر دی، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ انصار کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لونڈیوں سے ہمبستری کرتے ہیں اور مال سے محبت کرتے ہیں۔ آپ کا عزل کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تم ایسا کرتے ہو، تمہارے لیے کچھ قباحت نہیں اگر تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جس جان کی بھی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عزل اور تقدیرِ پیدائش ہے۔ ایک انصاری صحابی نے عرض کیا کہ ہم لونڈیوں سے ہمبستری کرتے ہیں اور مال سے محبت رکھتے ہیں، عزل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسا کرتے ہو؟ تمہارے لیے کوئی قباحت نہیں اگر تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جس جان کی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔ حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ پیدائش اللہ کی تقدیر کے تحت ہے۔ انسان کوئی تدبیر اختیار کرے یا نہ کرے، جس جان کا آنا اللہ نے لکھ دیا ہے، وہ آئے گی۔ اس حدیث سے تقدیر پر ایمان اور اللہ کے فیصلے کو سمجھنے کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پیدائش اللہ کی تقدیر کے تحت ہے۔
- جس جان کی پیدائش لکھی جا چکی ہے، وہ پیدا ہو کر رہے گی۔
- انسانی تدبیر اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر کو ختم نہیں کر سکتی۔
- دینی سوالات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے جاتے تھے۔
