صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۲ - صبر اور اجر کی امید
للہ ما أخذ وللہ ما أعطی: صبر کی خوبصورت حدیث
صحیح بخاری : ۶۶۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۶۰۲
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَسُولُ إِحْدَى بَنَاتِهِ ، وَعِنْدَهُ سَعْدٌ ، وأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، ومُعَاذٌ : أَنَّ ابْنَهَا يَجُودُ بِنَفْسِهِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا : " لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى كُلٌّ بِأَجَلٍ ، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " .
اسامہ روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سے ایک کا بلاوا آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سعد، ابی بن کعب اور معاذ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ بلانے والے نے آ کر کہا کہ ان کا بچہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ) نزع کی حالت میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ اللہ ہی کا ہے جو وہ لیتا ہے، اس لیے وہ صبر کریں اور اللہ سے اجر کی امید رکھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۶۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع صبر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کی طرف سے پیغام آیا کہ ان کا بچہ نزع کی حالت میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب بھیجا کہ اللہ ہی کا ہے جو وہ لیتا ہے، اور اللہ ہی کا ہے جو وہ دیتا ہے، ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، اس لیے صبر کریں اور اللہ سے اجر کی امید رکھیں۔ اس حدیث میں غم کے وقت کہنے اور سمجھنے والی بہت اہم بات ہے۔ مصیبت میں دل ٹوٹتا ہے، مگر حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جان، اولاد اور ہر نعمت اللہ کی ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ کے فیصلے پر قابو رکھے اور اجر کی امید رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مصیبت کے وقت صبر کرنا چاہیے۔
- جو اللہ لیتا ہے اور جو دیتا ہے، سب اسی کا ہے۔
- ہر جان اور ہر معاملے کا وقت مقرر ہے۔
- غم میں اللہ سے اجر کی امید رکھنی چاہیے۔
