صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۴ - عزیز کی وفات پر صبر

عزیز کی وفات پر صبر: ثواب کی نیت سے صبر کرنے کی فضیلت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۲۴

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : " مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ ، إِلَّا الْجَنَّةُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۴۲۴ کا خلاصہ

یہ حدیث قدسی ہے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں اپنے مومن بندے کی دنیا کی کوئی عزیز چیز اٹھا لیتا ہوں، پھر وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لیتا ہے، تو میرے یہاں اس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ اس حدیث کا موضوع صبر، احتساب اور عزیز کے بچھڑنے کا غم ہے۔ یہاں صبر کا مطلب بے حسی نہیں، بلکہ اللہ سے اجر کی امید رکھنا ہے۔ انسان کو اپنے عزیز کی جدائی پر دکھ ہوتا ہے، مگر مومن بندہ اللہ کے فیصلے پر صبر کرتا ہے اور ثواب کی نیت رکھتا ہے۔ حدیث میں ایسے صبر کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ اس سے غم کے وقت امید، اللہ سے تعلق، اور اجر کی نیت کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عزیز کی وفات پر صبر کرنا مومن کے لیے بڑی نیکی ہے۔
  • صبر کے ساتھ اللہ سے اجر کی امید رکھنا اہم ہے۔
  • غم کے وقت اللہ کے فیصلے پر راضی رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
  • حدیث میں ایسے صبر کا بدلہ جنت بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں