صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۶ - دنیا میں مسافر کی طرح رہو
دنیا میں مسافر کی طرح رہو: صحت اور زندگی کو غنیمت سمجھو
صحیح بخاری : ۶۴۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۱۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو المُنْذِرِ الطُّفَاوِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي ، فَقَالَ : " كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ : إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا ”دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا شانہ پکڑ کر فرمایا کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے تم اجنبی ہو یا راستہ چلنے والے مسافر ہو۔ یہ مثال بہت آسان ہے۔ مسافر کسی جگہ کو مستقل گھر نہیں سمجھتا، بلکہ اپنے اصل مقصد کی طرف بڑھتا ہے۔ اسی طرح مسلمان دنیا کو آخری منزل نہیں بناتا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو، اور صبح ہو تو شام کے منتظر نہ رہو۔ اپنی صحت کو بیماری سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جانو۔ یہ حدیث دنیا کی حقیقت، وقت کی قدر، صحت کی قدر، اور موت کی تیاری کا جامع سبق دیتی ہے۔ بندے کو آج کے موقع کو اچھے عمل میں لگانا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کو مستقل ٹھکانہ نہیں، سفر کی جگہ سمجھنا چاہیے۔
- صحت کو بیماری سے پہلے اچھے کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔
- زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جاننا چاہیے۔
- کل کے انتظار میں آج کی نیکی ضائع نہیں کرنی چاہیے۔
