صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۵ - جنت کی ایک جگہ دنیا سے بہتر
جنت کی قدر: کوڑے جتنی جگہ دنیا اور اس کے سب سامان سے بہتر
صحیح بخاری : ۶۴۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۱۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
سہل روایت:
میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے اور اللہ کے راستے میں صبح کو یا شام کو تھوڑا سا چلنا بھی «الدنيا وما فيها» سے بہتر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی قدر کو بہت واضح الفاظ میں بیان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے، سب سے بہتر ہے۔ اسی طرح اللہ کے راستے میں صبح یا شام کو تھوڑا سا چلنا بھی دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ یہ حدیث دنیا اور آخرت کے فرق کو سمجھاتی ہے۔ دنیا میں مال، جگہ، آرام اور چیزیں انسان کو بڑی لگتی ہیں، مگر آخرت کے مقابلے میں ان کی حیثیت کم ہے۔ جنت کی فضیلت، اللہ کے راستے میں چلنے کی فضیلت، اور دنیا کی محدود قیمت اس روایت کا بنیادی پیغام ہے۔ اس سے انسان کے دل میں آخرت کی رغبت پیدا ہوتی ہے اور دنیا کی چیزوں کو اصل مقصد نہیں سمجھتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنت کی معمولی جگہ بھی دنیا اور اس کے سامان سے بہتر ہے۔
- اللہ کے راستے میں صبح یا شام کا تھوڑا چلنا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔
- دنیا کی چیزیں آخرت کے مقابلے میں کم حیثیت رکھتی ہیں۔
- آخرت کی کامیابی کو دنیاوی فائدے پر ترجیح دینی چاہیے۔
