صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۳ - اصل زندگی آخرت کی ہے
اصل زندگی آخرت کی ہے: انصار و مہاجرین کے لیے نبوی دعا
صحیح بخاری : ۶۴۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۱۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ ، فَأَصْلِحْ الْأَنْصَارَ ، وَالْمُهَاجِرَهْ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره، فأصلح الأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں۔ پس تو انصار و مہاجرین میں صلاح کو باقی رکھ۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نقل ہوئی ہے: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة، فأصلح الأنصار والمهاجرة»۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی اصلاح فرما۔ حدیث کا مرکزی پیغام آخرت کی یاد ہے۔ دنیا کی زندگی چلتی ہے، اس میں محنت، تعلقات اور ذمہ داریاں بھی ہیں، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل کامیابی آخرت کی زندگی کو بتایا۔ ساتھ ہی صحابہ کے دو بڑے گروہوں، انصار اور مہاجرین، کے لیے اصلاح کی دعا فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی فکر انسان کو دعا، اصلاح اور درست عمل کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ حدیث آخرت کی زندگی، دنیا کی عارضی حیثیت، اور صالح لوگوں کے لیے دعا کرنے کا سادہ مگر مضبوط سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل اور باقی رہنے والی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے لیے اصلاح کی دعا فرمائی۔
- آخرت کی یاد انسان کو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
- نیک لوگوں کے لیے دعا کرنا اچھا عمل ہے۔
