صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۴ - خندق کے موقع پر آخرت کی دعا
غزوہ خندق کی دعا: زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے
صحیح بخاری : ۶۴۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۱۴
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، كُنَّا مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَحْفِرُ ، وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ وَيَمُرُّ بِنَا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ ، وَالْمُهَاجِرَهْ " ، تَابَعَهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
سہل بن سعد ساعدی روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خندق کھودتے جاتے تھے اور ہم مٹی کو اٹھاتے جاتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے فرماتے «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره، فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے، پس تو انصار و مہاجرین کی مغفرت کر۔“ اس روایت کی متابعت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر تھے۔ صحابہ مٹی اٹھا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خندق کھود رہے تھے۔ اس محنت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة، فاغفر للأنصار والمهاجرة»۔ یعنی اے اللہ! زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔ اس حدیث میں عمل، محنت، آخرت کی یاد اور دعا سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ مشکل وقت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو آخرت کی طرف متوجہ رکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی محنت کے دوران بھی دل کو آخرت سے جوڑے رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل اور محنت کے وقت بھی آخرت کو یاد رکھنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود صحابہ کے ساتھ کام میں شریک تھے۔
- انصار و مہاجرین کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی گئی۔
- دنیا کی محنت آخرت کی فکر کے ساتھ بہتر بن جاتی ہے۔
